سجدۂ تلاوت

قسم کلام: اسم معرفہ

معنی

١ - مختلف سورتوں میں قرآن حکیم کی چودہ آیات پر سجدہ لکھا ہے جن کی تلاوت کے بعد سجدہ ضروری ہے نہ کرے گا تو گنہگار ہوگا۔ "جس آیت پر سجدہ کا نشان ہو جب وہ آیت ختم ہو جائے تو فوراً سجدہ کر لے، اسے سجدہ تلاوت کہتے ہیں۔"      ( ١٩١٦ء، معلمہ، ٤٤ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'سجدہ' کے بعد ہمزہ زائد لگا کر کسرہ اضافت کے ساتھ عربی سے ماخوذ اسم 'تلاوت' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٦٨٨ء سے "ہدایات ہندی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - مختلف سورتوں میں قرآن حکیم کی چودہ آیات پر سجدہ لکھا ہے جن کی تلاوت کے بعد سجدہ ضروری ہے نہ کرے گا تو گنہگار ہوگا۔ "جس آیت پر سجدہ کا نشان ہو جب وہ آیت ختم ہو جائے تو فوراً سجدہ کر لے، اسے سجدہ تلاوت کہتے ہیں۔"      ( ١٩١٦ء، معلمہ، ٤٤ )

جنس: مذکر